We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سدا بادشاہی اللہ کی ہے

5 0 0
18.01.2019

کتنی ہی ایسی باتیں روزانہ ہمیں احساس دلاتی ہیں کہ دنیا میں سدا بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، باقی سب کو کچھ وقت کے لئے بادشاہی ملتی ہے پھر واپس لے لی جاتی ہے،جو شخص بھی اقتدار کے دنوں میں یہ سمجھ لیتا ہے کہ اب اس کے اختیار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا، وہ غافلوں کے قبیلے کا سرخیل بن جاتا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ میں ایک نیا چہرہ اقتدار اور منصفی کے منصب پر فائز ہو چکا ہے، کل تک اسی عمارت میں جس شخص کا طوطی بولتا تھا، اب اسے بھی شاید ایک سائل یا مؤکل کی حیثیت سے آنا پڑے۔ اس کے قلم کی وہ طاقت ختم ہو گئی ہے جو قضا و قدر کے فیصلے کرتی تھی۔ آج سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں پتہ چلے گا خلقِ خدا انہیں کیا کہتی ہے۔ وہ جب چیف جسٹس کے منصب پر تھے تو اپنے خلاف بات کرنے والوں کو طلب کر لیتے تھے، جیلوں میں ڈال دیتے تھے، مگر اب وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔

ان کے اچھے کاموں پر انہیں یاد کیا جائے گا اور جو فیصلے انہوں نے متنازعہ کئے،ان پر تنقید ہو گی۔ آخری دنوں میں انہوں نے وضاحتیں بھی کیں، جانے انجانے میں ہونے والی زیادتی پر معافی بھی مانگی۔ مگر ایسے فیصلے تاریخ کرتی ہے۔ جب کسی کا جنازہ سامنے پڑا ہو اور اس کے ورثاء یہ اعلان کر رہے ہوں کہ جس نے کچھ لینا دینا ہے،وہ ہمیں بتائے، ہم دینے کو تیار ہیں تو اس موقع پر ایک شخص بھی زبان نہیں کھولتا، کیونکہ وہ موقع ہی ایسا ہوتا ہے۔ سابق چیف جسٹس منصب پر بیٹھ کر وضاحتیں کرتے رہے معافی مانگتے رہے، مگر کس نے زبان کھولنی تھی، زبانیں تو اب کھلیں گی اور کھلتی ہی چلی جائیں گی۔ بہر حال انہوں نے اپنے محدود وقت میں جو کرنا تھا کیا، وہ بھی جانتے تھے کہ سدا چیف جسٹس نہیں رہنا اور کچھ کرنا بھی ہے، اس لئے وہ آخری دن تک عدالت لگا کے بیٹھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ ان کی ذات عوام کی امیدوں کا مرکز بن گئی تھی۔ یہ کہا جانے لگا تھا کہ ثاقب نثار کو توسیع ملنی چاہئے، مگر یہ سب ایک واہمہ ہوتا ہے، ایک جذباتیت ہوتی ہے۔ کوئی........

© Daily Pakistan (Urdu)