We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

صحافت برائے امن: پیس جرنلزم

2 0 0
18.01.2019

پیس جرنلزم (Peace Journalism) یا صحافت برائے امن، شعبہ ابلاغیات کا ایک اہم موضوع ہے جسے ناروے سے تعلق رکھنے والے ایک دانشور، ڈاکٹر جان گلتونگ (Johan Galtung) نے باقاعدہ اکیڈمک ڈسپلن کے طور پر فروغ دیا اور اس اعتبار سے انہیں اس شعبے کا بانی مانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گلتونگ کے مطابق امن کا تعلق محض تناؤ کے عدم وجود سے نہیں ہوتا بلکہ اس کےلیے انصاف کا وجود بھی ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے ’’امن سب کےلیے‘‘ (peace for all) کے نعرے پر پیس جرنلزم کی بنیاد رکھی۔ جان گلتونگ نے اپنے مقالات میں اسے دو اشاریوں، یعنی منفی (Negative Peace) اور مثبت (Positive Peace) میں تقسیم کیا ہے۔ امن کے منفی اشاریئے سے مراد کسی معاشرے میں تنازعات یا تشدد کا عدم وجود ہے جبکہ مثبت اشاریئے سے مراد ایسا معاشرہ ہے جہاں انصاف، برابری اور ہم آہنگی جیسی اقدار کو پذیرائی حاصل ہو۔

آمرانہ معاشرے جہاں بظاہر حکومتی جبر کے سبب امن و امان نظر آتا ہے لیکن اندر ہی اندر لاوا اُبل رہا ہوتا ہے، امن کے منفی اشاریوں کی تشریح کرتے ہیں کیونکہ موقع ملنے پر جب وہاں لاوا پھٹتا ہے تو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ زیادہ دیر تک جبر کے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو دبانا ممکن نہیں ہوتا۔ مسائل کا حل امن کےلیے ناگزیر ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور مشرق وسطیٰ میں ’’عرب بہار‘‘ اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں کہ جہاں ریاستوں نے وقتی طور پر قوت کے بل بوتے پر امن قائم رکھا لیکن وقت آنے پر ان معاشروں میں انتشار پھیل گیا کیونکہ وہاں بنیادی معاشرتی مسائل کے حل کےلیے امن کے مثبت اشاریوں کو فروغ نہیں دیا گیا تھا۔ اس لیے جان گلتونگ، امن کے مثبت اشاریوں کی اہمیت پر زیادہ زور دیتا ہے۔

مارٹن لوتھر کنگ کے بقول، امن صرف منفی علامات (negative forces) جیسے جنگ، تناؤ اور مسائل کے عدم وجود سے نہیں بلکہ مثبت علامات (positive forces) جیسے انصاف اور دوسروں کےلیے خیر سگالی کے جذبات سے پہچانا جاتا ہے۔

وار جرنلزم اور پیس جرنلزم کو اسی سیاق و سباق میں........

© Express News