سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر خصوصی عدالت نے کھلاڑی کو ایک گدی نشین سمیت دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے تو اس پر مختلف النوع چہ مگوئیاں ہورہی ہیں، طرح طرح کے سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔ کہاجارہا ہے کہ اس میں بڑے جھول ہیں وکلا صفائی 342کے مطابق پیش نہیں ہوئے پراپر جرح نہیں ہوئی پورا موقع نہیں دیا گیا جلد بازی سے کام لیا گیا لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’خود کردہ راعلاجے نیست‘ آپ لوگوں نے چال چلی کہ ہمارے وکلاء عدالت میں پیش نہیں ہونگے تو معاملہ لٹک کر رہ جائے گا اس کا نقصان خود آپ ہی کو ہوا ،انہوں نے قانون کے مطابق سرکاری وکلاء صفائی کی تقرری کرتے ہوئے کیس کے بدیہی تقاضے پورے کرلیے۔ سائفر تحریر کرنیوالے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر اسد مجید خاں سابق فارن سیکرٹری سہیل محمود اورپرنسپل سیکرٹری سمیت اٹھارہ واضح و ٹھوس شہادتیں سامنے آگئیں۔‎اس امر میں کیا شک ہے کہ قومی و ریاستی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر قربان کردیا گیا، حلف یہ نہیں اٹھایا تھا کہ میں اس پوسٹ پر براجمان ہوکر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی پابندی کروں گااور پھر وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا آپ نے بھرے عوامی جلسوں میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا، سائفر کو یا اس کی کاپی کو جلسوں میں لہرا لہرا کر کہا کہ امریکا نے پاکستان کے خلاف سازش کی ہے حالانکہ کیس کی پروسیڈنگزمیں یہ بات ثابت ہوگئی کہ سازش والی کوئی بات سائفر میں سرے سے موجود ہی نہ تھی، آپ کی اتنی بڑی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے دو ممالک کے درمیان نہ صرف یہ کہ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں بلکہ تعلقات میں خرابی ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی پھر اس پروپیگنڈے کے ذریعے قومی اسمبلی توڑنے جیسا قطعی غیر آئینی قدم اٹھایا گیا اس طرح محض ذاتی مفاد کی خاطر پورے سسٹم کو مفلوج کرنے کی یہ مکروہ حرکت تھی۔ قانون کی کسوٹی پر پورا اترتے ہوئے اپیلوں میں یہ کیس کتنا مضبوط ثابت ہوتا ہے یہ بعد کی بات ہے لیکن قومی نقطۂ نظر سے اگر ملاحظہ کریں تو یہ ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا اس لیے بھی بنتی تھی کہ کل کلاں کوئی اور موقع پرست اس نوع کی جسارت نہ کرسکے ۔ اب ایسی ہی صورتحال توشہ خانہ کیس کے حوالے سے بھی سامنے آگئی ہے کھلاڑی اور بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کو کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر چودہ چودہ سال کی سزاہوگئی ہے۔ انھوں نے مختلف دوست ممالک سے ملنے والے ایک سو آٹھ قیمتی تحائف میں غبن کیا اور یوں سخت سزا کے حقدار ٹھہرےان سزاؤں کے 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ اگرچہ کچھ احباب اس نوع کا پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ سزائیں سنائے جانے پر پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو ہمدردی کا ووٹ ملے گا مگر درویش کی نظر میں ہمدردی کا ووٹ ہرگز نہیں ملے گا بلکہ پہلے سے موجود ہمدردی پر بھی ڈینٹ پڑے گا جو لوگ ہار یا جیت کے حوالے سے گومگو کی پوزیشن میں تھے انہیں بھی یقین ہوجائے گا کہ جیت کی جو تھوڑی بہت گنجائش تھی وہ بھی اب ختم ہوگئی ہے۔‎

‎درویش نے ربع صدی قبل لکھا تھاکہ جیسا تیسا بھی ہے، وہ کرکٹ کا کھلاڑی ضرور ہے مگر سیاست کا اناڑی ہے ایسا اناڑی جو وقت کے ساتھ کچھ سیکھنے سے ہمیشہ کے لیے قاصر ہے اور قاصر رہے گا کیونکہ سیکھتا وہ ہے جس کے اندر اسے ہضم یا جذب کرنے کی صلاحیت ہو جبکہ یہ شخص ہمیشہ اقتدار کا حریص وہ کسی بڑے مشن یا مقصد کے لیے ہرگز نہیں ہے صرف اپنی انا کی تسکین یا غرور و تکبر کو بڑھاوا دینے کے لیے ہے۔ یوٹرن کے بادشاہ کی زندگی کا کوئی اصول ہے نہ ضابطہ، کرپشن کرپشن چلانے والے کی اصلیت حال ہی میں ٹرانسپریسی انٹرنیشنل نے نکال دی ہے بلاشبہ ہم شوباز حکومت کو گھٹیا اور غیر معیاری حکومت لکھتے اور بولتے چلے آرہے ہیں مگر اس کے باوجود کس قدر شرم کی بات ہے کہ اس عالمی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق کھلاڑی کی حکومت شہبازحکومت سے بھی زیادہ کرپٹ تھی اس نام نہاد صادق و امین کی حکومت میں پاکستان کا گھٹیا نمبر ایک سو چالیس تھا جو شہباز حکومت میں کم ہوکر ایک سوتینتیس ہوگیا یعنی سات فیصد بہتری ہوئی۔‎درویش یہاں پوری ذمہ داری سے تحریر کیے دیتا ہے کہ یہ شخص یا اس کی سیاست قصۂ پارینہ بن کر رہ جائے گی لہٰذا بہتر ہے دوسروں کو دھمکانے کے لیے وہ حکمرانی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے، اسکی پارٹی بھی کوئی سیاسی جماعت نہیں محض ایک پریشر گروپ تھا جسکے نام نہاد پریشر کا غبارہ بھی 9 مئی کے بعد پھٹ چکا ہے۔ جو لوگ کہتے تھے کہ کھلاڑی کی گرفتاری ہماری ریڈ لائن ہے آج وہ سب جوشیلے انقلابی کدھر ہیں؟ آتے باہر اور جس طرح کبھی غیبی اشاروں پر دھرنے سجائے تھے آج آئیں اور بیٹھیں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے پر لیکن 9مئی کے بعد ان سب کی خود کھلاڑی نے جس طرح تذلیل کی ہے اس کے بعد وہ بیچارے مار کھانے کیوں نکلیں، الیکشن کے حوالے سے ہمارے جن احباب کو ہنوز شبہات ہیں وہ جمع خاطر رکھیں 8 فروری زیادہ دور نہیں۔

پاکستان انڈر 19 ٹیم کے فاسٹ بولر عبید شاہ کا کہنا ہے کہ مینجمنٹ کے دوستانہ رویےکی وجہ سے لڑکے اچھا پرفارم کررہے ہیں۔

حکام کے مطابق جمشید دستی نے بغیر اجازت جلسہ اور غیر شائستہ تقریر کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام روز پارٹیاں بدلنے والوں کو آٹھ فروری کو عبرت ناک شکست دیں گے۔

مردان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ ساری عمر دوسروں سے حساب مانگتے رہے تو توشہ خانہ کیس میں حساب کیوں نہیں دیا۔

الیکشن مہم کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن نوجوانوں کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا، ملک میں خوش حالی کا دور واپس لائیں گے۔

چیف آرگنائزر پی ٹی آئی عمر ایوب نے رؤف حسن کی مقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی ریلی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔

ملکہ کوسار مری میں شدید برفباری کے باعث مری ایکسپریس وے سمیت کئی شاہراہوں پر پھسلن کے باعث کئی گاڑیاں پھنس گئیں، مری کی سیر کو جانے والے کئی خاندان بچوں سمیت گاڑیوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، رش کے باعث اسلام آباد سے مری کے لیے سیاحوں کا داخلہ بھی روک دیا گیا ہے۔

پنجاب کابینہ نے 3 ایم پی او کے نفاذ میں 3 ماہ توسیع کی تجویز مسترد کردی ہے۔

الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی الیکشن کمشنر کو مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ پولنگ کے دن پولنگ اسٹاف اور پولنگ ایجنٹ اپنے موبائل بند کر دیں گے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ الیکشن 8 فروری کو ہی ہوں گے۔

پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا گیا۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ قوم جان چکی ہے کہ دونوں کیسز میں سیاسی انتقام ہے، سائفر کیس میں کیا جرم کیا گیا ہے۔

لاشوں کی آنکھوں پر پٹیاں، ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے، ان تمام فلسطینیوں کو تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے۔

جعلی شادیاں یورپی یونین کا رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے کےلیے کی گئی تھیں۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

QOSHE - افضال ریحان - افضال ریحان
menu_open
Columnists Actual . Favourites . Archive
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

افضال ریحان

8 6
01.02.2024

سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر خصوصی عدالت نے کھلاڑی کو ایک گدی نشین سمیت دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے تو اس پر مختلف النوع چہ مگوئیاں ہورہی ہیں، طرح طرح کے سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔ کہاجارہا ہے کہ اس میں بڑے جھول ہیں وکلا صفائی 342کے مطابق پیش نہیں ہوئے پراپر جرح نہیں ہوئی پورا موقع نہیں دیا گیا جلد بازی سے کام لیا گیا لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’خود کردہ راعلاجے نیست‘ آپ لوگوں نے چال چلی کہ ہمارے وکلاء عدالت میں پیش نہیں ہونگے تو معاملہ لٹک کر رہ جائے گا اس کا نقصان خود آپ ہی کو ہوا ،انہوں نے قانون کے مطابق سرکاری وکلاء صفائی کی تقرری کرتے ہوئے کیس کے بدیہی تقاضے پورے کرلیے۔ سائفر تحریر کرنیوالے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر اسد مجید خاں سابق فارن سیکرٹری سہیل محمود اورپرنسپل سیکرٹری سمیت اٹھارہ واضح و ٹھوس شہادتیں سامنے آگئیں۔‎اس امر میں کیا شک ہے کہ قومی و ریاستی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر قربان کردیا گیا، حلف یہ نہیں اٹھایا تھا کہ میں اس پوسٹ پر براجمان ہوکر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی پابندی کروں گااور پھر وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا آپ نے بھرے عوامی جلسوں میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا، سائفر کو یا اس کی کاپی کو جلسوں میں لہرا لہرا کر کہا کہ امریکا نے پاکستان کے خلاف سازش کی ہے حالانکہ کیس کی پروسیڈنگزمیں یہ بات ثابت ہوگئی کہ سازش والی کوئی بات سائفر میں سرے سے موجود ہی نہ تھی، آپ کی اتنی بڑی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے دو ممالک کے درمیان نہ صرف یہ کہ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں بلکہ تعلقات میں خرابی ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی پھر اس پروپیگنڈے کے ذریعے قومی اسمبلی توڑنے........

© Daily Jang


Get it on Google Play