We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

برف باری فطرت کا حسن بھی ہے اور امتحان بھی

5 0 7
18.01.2019

امیر محمد خان

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں نہ صرف چاروں موسم پائے جاتے ہیں بلکہ جو میدانی، ریگستانی، پہاڑی اور ساحلی علاقوں سے بھی فیض یاب ہیں۔ ہر جگہ کے اپنے نظارے اور اپنی خوبصورتی ہے، سیاح موسموں کے اعتبار سے سیاحت کی غرض سے کبھی میدانی تو کبھی پہاڑی علاقوں، صحراؤں یا پھر کبھی ساحلوں کا رخ کرتے ہیں۔

آج کل سردیوں کا موسم ہے اور پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ جاری ہے، سو سیاح سفید برف پوش پہاڑ دیکھنے کے لیے شمالی علاقاجات کا رخ کر رہے ہیں۔ پھر ان خوبصورت اور دل موہ لینے والے مناظر کو نہ صرف اپنے کیمروں میں قید کرتے ہیں بلکہ سیکنڈز میں اپنی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پھیلادیتے ہیں اور یہی تصاویر اور ویڈیوز ملک میں سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار بھی ادا کرتی ہے۔

ویسے تو پاکستان میں سیاحتی مقامات ریگستانوں، میدانی علاقوں اور ساحلی علاقوں میں بھی واقع ہیں لیکن یہاں ہمارا موضوع وہ پہاڑی علاقاجات ہیں جو سطح سمندر سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔

چاہے موسمِ خزاں ہو یا موسمِ بہار، سردیاں ہوں یا پھر گرمیاں، یہ مقامات ہر موسم میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے پُرکشش رہے ہیں۔

اکثر سیاح یہ سوچتے ہیں کہ ان مقامات کے باشندے بہت خوش قسمت ہیں جو شہری مسائل سے بے نیاز ہوکر پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ سیاحوں کا چند دنوں پر محیط یہ قیام کسی گیسٹ ہاؤس یا ہوٹل میں ہوتا ہے، جہاں انہیں زندگی کی تقریباً تمام بنیادی سہولیات کثیر رقم کے عوض حاصل ہوتی ہے۔

تاہم انہیں ان دشواریوں اور اَن گنت مسائل کا علم ہی نہیں ہوتا جن کا سامنا یہاں کے مقامی افراد کو ہر روز کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاح یہ قیاس کرلیتے ہیں کہ یہ لوگ قدرت کے قریب رہ کر انتہائی پُرسکون اور آرام دہ زندگی گزارتے ہیں حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان کے بیشتر سیاحتی مقامات زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے زندگی گزارنا بالکل بھی آسان نہیں ہوتا۔ یہاں قدرت خوبصورت تو ہے لیکن امتحان بھی لیتی ہے۔

ان پہاڑی علاقوں میں مشکلات اور مسائل 2 اقسام کے ہیں، ان میں سے ایک کا تعلق ان علاقوں کے موسم اور جغرافیہ سے ہے۔ موسم کی سختیوں کی وجہ سے معمولاتِ زندگی کافی متاثر ہوتی ہیں۔ یہ مسائل ایسے ہیں جن کا مکمل خاتمہ تو نہیں کیا جاسکتا البتہ حکومتی اقدامات کے سبب ان مشکلات کو بڑی حد تک کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔

جبکہ مشکلات اور مسائل کی دوسری قسم کا تعلق حکومتی یا انتظامی عدم توجہی سے ہے۔ یہاں ہسپتالوں، سڑکوں، تعلیمی اداروں اور موبائل جیسی سہولیات اکثر و بیشتر دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔

ان سیاحتی مقامات کی........

© Dawn News TV