We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ریزرویشن :اندھے سے کانابھلا

1 3 0
18.01.2019

ریزرویشن :اندھے سے کانابھلا

بھارت کی مرکزی سرکار کے اس اعلان کی کوئی بھی مخالفت نہیں کرسکتا کہ ملک میں اکانومی کے لحاظ سے جو محروم لوگ ہیں ‘انہیں بھی اب تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں دس فیصد ریزرویشن ملے گا۔ نئی دلی میں بی جے پی کے قومی کنونشن کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ نئے انتظام میں معاشرے کے دیگر طبقوں کے لیے موجودہ کوٹے کو کم نہیں کیا جائے گا۔ اس نئے ریزرویشن نے سبھی ذات والوں کی حد کو کراس کر دیا ہے۔ اس نے ایک حد اور بھی کراس کی ہے۔ یہ صرف ہندوئوں کے لیے نہیں ہے ‘یہ بھارت کے ہر اس باشندے کے لیے ہے‘جس کی آمدنی آٹھ لاکھ سالانہ سے کم ہے یا جس کے پاس پانچ ایکڑ سے کم زمین ہے ۔ یعنی وہ کوئی مسلم ‘کوئی عیسائی ‘کوئی یہودی‘ بہائی بھی ہو سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ریزرویشن ذات ‘ فرقہ یا مذہب کی حدسے بھی اوپر اٹھ گیا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کو اس سے بڑی تکلیف ہو رہی ہے ۔ اپوزیشن والے کہہ رہے ہیں کہ مودی نے یہ چناوی دائو مارا ہے۔ اگلے تین‘ چار ماہ میں یہ اعلان قانون کیسے بن پائے گا؟پہلے تو پارلیمنٹ کے دونوں سدن اسے 2/3 کی اکثریت سے پاس کریں ‘پھر آدھی سے زیادہ ودھان سبھائیں پاس کریں ‘تبھی یہ قانون بن سکتا ہے۔ یعنی یہ صرف چناوی جملہ ہے‘ اگر یہ قانون بن بھی جائے تو اس آئینی ترمیم کو بھارتی سپریم کورٹ غیر قانونی اعلان کر دے گی‘ کیونکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں 1992ء کے فیصلے کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا۔ان کی رائے میں آئین صرف سماجی حوالوں اور تعلیم کے معاملات میں ریزرویشن دیتا ہے۔ اکانومی کی نظر سے محروموں کو نہیں‘ لیکن یہ ریزرویشن پہلے سے دیے جا رہے پچاس فیصد ریزرویشن میں سیندھ نہیں لگائے گا۔اب ریزرویشن پچاس فیصد کی جگہ ساٹھ فیصد ہوگا ۔یہ بات........

© Roznama Dunya